اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، ایسے حالات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے گولان کی مقبوضہ پہاڑیوں پر اسرائیل کی حاکمیت کو رسماً تسلیم کر لیا ہے جب امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی ۱۹۸۱ میں شائع ہوئی دستاویز کے مطابق ان پہاڑیوں میں طول تاریخ میں کبھی بھی یہودی آباد نہیں ہوئے اور نہ ہی یہ علاقہ یہودی علاقوں میں شامل تھا۔
سی آئی اے کی اس دستاویز میں آیا ہے: ’’ تاریخی اعتبار سے گولان کی بلندیاں کبھی بھی یہودی ملک کا حصہ نہیں رہی ہیں اور اس علاقہ کا گزشتہ ۳۰۰۰ سال سے یہودیوں سے کوئی تعلق نہیں رہا ہے‘‘۔
اس رپورٹ کے مطابق، صہیونی ریاست نے یہودی آبادکاری کی غرض سے سن ۱۹۶۷ میں ایک لاکھ شامی عربوں کو اس علاقے سے باہر کیا۔
دستاویز میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ صہیونی ریاست نے نہ صرف ایک لاکھ شامیوں کو ان کی سرزمین واپس نہیں دی بلکہ خود ۱۹۶۸ سے اس علاقے میں کھیتی باڑی شروع کر دی تھی۔
خیال رہے کہ صہیونی ریاست نے ۱۹۶۷ میں گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر کے شامیوں کے ۸۰ بستیوں کو نابود کر دیا تھا تاکہ اپنی کھیتی باڑی کر کے یہودی کو وہاں پر آباد کر سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲